Wednesday , June 20 2018
Home / AbbTak Urdu News / مشرف کیس ہر صورت اپنے انجام کو پہنچے گا، نواز شریف

مشرف کیس ہر صورت اپنے انجام کو پہنچے گا، نواز شریف

اسلام آباد: (25 مئی 2018) سابق وزیراعظم نے عمران خان کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ جلسے میں پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنے والے اب اسی تھوک کو چاٹ رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ایون فیلڈ ریفرنس میں پیشی کے موقع پر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ عمران خان نے پارلیمنٹ کےلئے لعنت کا لفظ استعمال کیا لیکن جس پر لعنت بھیج رہے ہیں اس سے پورا فائدہ اٹھایا، اگر یہ غیر پارلیمانی نہیں ہے تو اسے کہتے ہیں تھوک کر چاٹ رہے ہیں، عمران خان پارلیمان سے متعلق اپنے الفاظ اور عمل کی وضاحت خود دیں گے۔

ویڈیو دیکھنے کے لیے پلے کا بٹن دبائیے

غیر رسمی گفتگو میں قائد مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ ایک وزیر اعظم ستر،70 پیشیاں بھگت رہاہے جبکہ ڈکٹیٹرمفرور ہے لیکن کوئی قانون مشرف کےخلاف ٹرائل کو نہیں روک سکتا آج پہنچے یا چھ ماہ بعد پہنچے لیکن مشرف کا ٹرائل انجام تک پہنچے گا، مشرف کی ٹرائل سے جان نہیں چھوٹ سکتی، کیونکہ اس طرح کے مقدمے واپس ہو ہی نہیں سکتے، یہ سنگین غداری کیس ہے۔ مشرف ٹرائل اوپن اینڈ شٹ کیس ہے اسی لیے موصوف پاکستان نہیں آرہے۔سابق وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ مشرف نے بارہ مئی دوہزار سات کو پارلیمنٹ میں خطاب کے بعد مکا لہرایا تھا، کہاں گیا وہ مکا ؟ موصوف باہر جا کر بیٹھ گئے۔

نگران وزیراعظم کے سوال پر قائد مسلم لیگ (ن) کا کہنا تھا اگر اتفاق رائے نہ ہوا تو معاملہ پارلیمنٹ میں جائے گا۔

گزشتہ روز بھی میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ وہ دھرنے کے دنوں میں استعفیٰ کا مشورہ دینے والے اپنے ماتحت ادارے کے سربراہ کو فارغ کرسکتے تھے لیکن انہوں نے ایسا نہ کرکے تحمل کا مظاہرہ کیا۔

ویڈیو دیکھنے کے لیے پلے کا بٹن دبائیے

 سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ کل میڈیا میں پورا بیان دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی، میڈیا اپنے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے نہ پڑنے دے۔ میڈیا کاحق ہے کہ وہ یہ سب دکھائے،اگر میڈیا کے ہاتھ پاوں باندھےگئے تو رسیاں کھول دیں گے۔اس موقع پر صحافی نے سوال کیا کہ ماتحت ادارے کے جس سربراہ نے آپ کو پیغام پہنچایا اس سے استعفیٰ کیوں نہیں لیا؟ اس سوال کے جواب میں نواز شریف نے کہا کہ وہ اس ادارے کے سربراہ کو برطرف کرسکتے تھے لیکن انہوں نے تحمل ، در گزر ، بردباری اور ہمت کا مظاہرہ کیا، انہوں نے اسے ملکی مفاد میں برطرف نہیں کیا اور درگزرسے کام لیا۔ایک صحافی نے سوال کیا کہ اگر سر جھکا کے نوکری نہیں کی تو مشاہداللہ اور پرویزرشید سے استعفیٰ کیوں لیا؟ صحافی کے اس سوال پر نواز شریف نے کہا کہ مشاہداللہ اور پرویز رشید سے استعفیٰ لینا بھی اسی بردباری اور درگزر کا نتیجہ ہے۔

میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں قائد مسلم لیگ (ن) کا کہنا تھا کہ سب کو حق کےلئے کھڑاہونا ہوگا، اگر چاہتے ہیں کہ ملک میں حقیقی جمہوریت ہو تو سب کھڑے ہوں کیونکہ سب کھڑے ہوں گے تو ہی یہ ممکن ہوگا، ان مسائل نے ستر سال سے ہماری جان نہیں چھوڑی۔واضح رہے کہ گزشتہ روز اپنی پریس کانفرنس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا تھا کہ 2014 میں انہیں دھمکی نما مشورہ ملا تھا جس میں ماتحت ادارے کے افسر نے انہیں مستعفی ہونے یا لمبی رخصت پر جانے کا کہا تھا۔

ویڈیو دیکھنے کے لیے پلے کا بٹن دبائیے

قائد مسلم لیگ (ن) نے بتایا کہ بارہ اکتوبر کو مشرف نامی جرنیل نے اقتدار پر قبضہ کیا، سب نے آگے بڑھ کر مشرف کا استقبال کیا، آٹھ سال بعد دوبارہ آئین توڑا اور ایمرجنسی کے نام پر مارشل لا لگایا، اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو نظر بند کیا جس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی، (ن) لیگ نے واضح موقف اپنایا، اور دوہزار تیرہ میں یہ عوام کے سامنے رکھا، کہ اگر ہماری حکومت آئی تو آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت مشرف کیخلاف غداری کا مقدمہ دائرکرینگے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ مشرف کے خلاف مقدمہ شروع ہوتے ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ آمر کو کٹہرے میں لانا کتنا مشکل ہوتا ہے، سارے ہتھیار اہل سیاست کے لیے بنے ہیں، جب بات فوجی آمروں کے خلاف آئے تو فولاد موم بن جاتی ہے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ آصف علی زرداری کے ذریعے پیغام دیا گیا کہ پرویز مشرف کے دوسرے مارشل لاء کو پارلیمانی توثیق دی جائے لیکن میں نے ایسا کرنے سے انکار کیا، یہ ہے میرے اصل جرائم کا خلاصہ، اس طرح کے جرائم اور مجرم پاکستانی تاریخ میں جا بجا ملیں گے۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دوہزار چودہ کے دھرنوں کا مقصد مجھے دباؤ میں لانا تھا، جو کچھ ہوا سب قوم کے سامنے ہے، اب یہ باتیں ڈھکا چھپا راز نہیں ہیں، ایمپائر کی انگلی اٹھنے والی ہے، کون تھا وہ امپائر، وہ جو کوئی بھی تھا اس کی پشت پناہی دھرنوں کو حاصل تھی۔

نواز شریف نے کہا کہ پی ٹی وی، پارلیمنٹ، وزیراعظم ہاؤس اور ایوان صدر فسادی عناصر سے کچھ محفوظ نہ رہا، مقصد تھا مجھے پی ایم ہاؤس سے نکال دیں اور پرویز مشرف کے خلاف کارروائی آگے نہ بڑھے۔

سابق وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ منصوبہ سازوں کا خیال تھا کہ میں دباؤ میں آجاؤں گا، میرے راستے پر شرپسند عناصر بٹھا دیے گئے، کہا گیا وزیراعظم کے گلے میں رسی ڈال کر گھسیٹتے ہوئے باہر لائیں گے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ کاش آج یہاں لیاقت علی خان، ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی روح کو طلب کرسکتے اور پوچھ سکتے کہ آپ کے ساتھ کیا ہوا اور انہیں آئینی مدت پوری کرنے کیوں نہیں دی گئی۔

سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ مجھے کبھی آئینی مدت پوری کرنے نہیں دی گئی، مجھے جلاوطن کردیا گیا، میری جائیدادیں ضبط کرلی گئیں، واپس آیا تو ہوائی اڈے سے روانہ کردیا گیا، میں اس وقت بھی حقیقی جمہوریت کی بات کررہاتھا، فیصلے وہی کریں جنہیں عوام نے اختیار دیاہے، داخلی اور خارجی پالیسیوں کی باگ دوڑ منتخب نمائندوں کے پاس ہی ہو۔نواز شریف نے کہا کہ منصب اور پارٹی صدارت سے ہٹانے اور عمر بھر کے لیے نااہل قرار دینا واحد حل سمجھ لیا گیا جب کہ گواہ میرے خلاف ادنیٰ ثبوت بھی پیش نہ کرسکے، عملاً میرے مؤقف کی تائید ہوئی۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ پاناما میں عالمی لیڈرز کا نام بھی تھا، کتنے سربراہان کو معزول کیا گیا لیکن پاکستان میں یہ کارروائی جس شخص کے خلاف ہوئی اس کا نام نواز شریف ہے جس کا نام پاناما میں نہیں تھا۔

نواز شریف نے کہا کہ استغاثہ میرے خلاف کیس ثابت نہیں کر سکا، مجھے اپنے دفاع میں شواہد پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ میں مسلح افواج کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہوں، فوج کی کمزوری ملکی دفاع کی کمزوری ہوتی ہے، قابل فخر ہیں وہ بہادر سپوت جو سرحدوں پر فرائض انجام دے رہے ہیں، سرحدوں پر ڈٹے ہوئے سپوت ہمارے کل کے لیے اپنا آج قربان کردیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئین شکنی یا اقتدار پر قبضے کا فیصلہ ایک یا دو جرنیل کرتے ہیں اس کی لذتیں مٹھی بھر جرنیلوں کے حصے میں آتی ہیں لیکن اس کی قیمت پوری مسلح افواج کو ادا کرنا پڑتی ہے۔نواز شریف نے کہا کہ مجھے بے دخل کرنے اور نااہل قرار دینے والے کچھ لوگوں کو تسکین مل گئی ہوگی، مجھے سیسلین مافیا، گارڈ فادر، وطن دشمن اور غدار کہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، میرے آباواجداد ہجرت کرکے یہاں آئے، میں پاکستان کا بیٹا ہوں مجھے اس مٹی کا ایک ایک ذرہ پیارا ہے، میں کسی سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینا اپنی توہین سمجھتاہوں، میری نااہلی اور پارٹی صدارت سے ہٹانے کے اسباب و محرکات کو قوم بھی اچھی طرح جانتی ہے۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کیا میرے خلاف فیصلہ دینے والے ججوں کو مانیٹرنگ جج لگایا جا سکتا ہے؟ کیا کسی لفظ کی تشریح کے لیئے گمنام ڈکشنری استعمال کی جاتی ہے؟ کیا کسی سپریم کورٹ کے بینچ نے جے آئی ٹی کی نگرانی کی؟ کیا کسی نے اقامے پر مجھے نااہل کرنے کی درخواست دی تھی؟، یہاں جتنے گواہان پیش ہوئے کسی نے گواہی نہیں دی کہ میں نے کوئی جرم کیا، آپ اورمجھ سمیت سب کو اللہ کی عدالت میں پیش ہوناہے، ریفرنس کا فیصلہ آپ پر چھوڑ رہا ہوں۔

یہ بھی پڑھیے

اگلا الیکشن ووٹ کو عزت دو کے نعرے پر ہوگا، نواز شریف

پرویز مشرف کے خلاف غداری کیس منصب سے ہٹانے کی وجہ بنی، نواز شریف

 

 

 

 

Visit To News Source Webpage

Check Also

عمران خان، شاہد خاقان اور عائشہ گلالئی اسکروٹنی کے لئے ایک ساتھ طلب

اسلام آباد: (17 جون، 2018) اسلام آباد کے حلقے این اے53 کے امیدواروں کی کاغذات …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *